پنجاب کاآئندہ مالی سال21-2020کابجٹ کل پیش کیا جائے گا
فائل فوٹولاہور:پنجاب کا آئندہ مالی سال 21-2020کابجٹ کل پیش کیا جائے گا،بجٹ کا ججم 2250 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا۔
وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کریں گے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کے سالانہ ترقیاتی پرگرام کا حجم 338 ارب روپے جبکہ جاری اخراجات کیلئے 1780ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں شعبہ صحت اور تعلیم کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، پرائمری ہیلتھ کیئر کے شعبے کیلئے رواں مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد اضافے کے ساتھ 123 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسپیشلائزڈ ہیلتھ کے شعبے میں بھی 7فیصد اضافے کے ساتھ 130ارب روپے دیئے جانے کی تجویز ہے ،اسکول ایجوکیشن کیلئے 18فیصد اضافے کے ساتھ 323 ارب جبکہ کورونا وائرس کیخلاف خدمات سر انجام دینے والے ہیلتھ پروفیشنلز کیلئے 9 ارب روپے الاوئنس کی مد میں رکھے جانے کی تجویز ہے۔
ہیلتھ پروفیشنلز کی 8519 آسامیوں پر بھرتی کرنے کی تجویز بھی آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ میں شامل کی گئی ہے،اس کے علاوہ کورونا وبا کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کو ریلیف دینے کیلئے 30 ارب کا پیکج مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ میں دی گئی ہے۔
پنجاب بجٹ میں 15 ارب کا ٹیکس ریلیف پیکج دینے کی تجویز دی جا رہی ہے،محکمہ پولیس کے بجٹ میں 17 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے اور اس مد میں 132 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں دی گئی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ نہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وزیر اعلی عثمان بزدار کل بجٹ اجلاس سے پہلے صوبائی کابینہ کی میٹنگ میں کریں گے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔